Circle Image

Aftabalam Shahnoori

@aftabalamshahnoori

دیوارِ الفت یہ جب بھی ڈھے گی
ہرجائی سودائی ہمیں ہی کہے گی
تُو مانے نہ مانے مرضی ہے تیری
مسلم سے دنیا کی رونق رہے گی
آفتاب عالم شاہ نوری

0
2
ہر دن نئی غزل کا تقاضہ کرے ہے دل
یادوں کو بوریوں میں سلیقے سے باندھ کر
ذہن و جگر میں ان کا ذخیرہ کرے ہے دل
چارہ گری کے فن میں یہ ماہر ہے دوستو
زخمِ جگر نظر کا مداوا کرے ہے دل
حسرت نہ خواہشیں نہ تمنائیں بے شمار

0
1
میں جب کہیں بھی سفر پہ جاؤں
نگر نگر یا کہ دور گاؤں
ہو زندگانی کی دھوپ چھاؤں
جہاں رہوں میں اسے بلاؤں
میں لوٹ آؤں کہ اس سے پہلے
وہ میری زوجہ وہ میری ہمدم

5
وہ چہرے یاد آتے ہیں
ذرا سورج کے ڈھلتے ہی
مرے دل کے دریچے میں
غموں کی جوت جلتی ہے
نئے ارماں سلگتے ہیں
وہ نغمے یاد آتے ہیں جنہیں گائے تھے ہم سب نے

0
5
شام کے ڈھل جاتے ہی اکثر
یوں لگتا ہے دل کو میرے
شہر کے اک اک سیٹھ کی دن بھر
میں نے ہی مزدوری کی ہے
ذہن پہ غم کا بوجھ ہے ڈھویا
دفتر میں سر اپنا کھپایا

0
5
جہاں بھی جائیں جدھر بھی جائیں، سروں پہ دھوپوں کا سخت پہرا
ہر اک قدم پر نئی مصیبت
ہر اک قدم ہے نیا جھمیلا
برس رہا ہے فلک سے پل پل
تمازتوں کا
سلگتا شعلہ

0
19
جفا کی دھوپ میں الفت کا سائباں دیکھوں
کبھی زمیں تو کبھی سمتِ آسماں دیکھوں
کہاں ہوں میں، کہاں وہ روح کا ٹھکانہ ہے
میں اپنی ذات میں ہی خود کو لامکاں دیکھوں
لگی جو آگ مرے دل کے گوشے گوشے میں
اُسی گھڑی سے میں آنکھوں سے بس دھواں دیکھوں

0
10
وہ چہرے یاد آتے ہیں
ذرا سورج کے ڈھلتے ہی
مرے دل کے دریچے میں
غموں کی جوت جلتی ہے
نئے ارماں سلگتے ہیں
وہ نغمے یاد آتے ہیں جنہیں گائے تھے ہم سب نے

0
10