بعض اوقات شاعر الف کا ایصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ   پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

اس کی بہت عمدہ مثال  میری تقی میر کی  ایک غزل میں موجود ہے:

یہاں پر "نام آج" کی جگہ "ناماج" پڑھا جائے گا جس کو تقطیع کے نتیجے میں  نارنجی رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔

ایصال الف  کی یہ سہولت اس نئے ورژن میں شامل کی گئی ہے۔ 

(اس طرح سے کسی بھی لفظ سے پہلے # لگا کر آپ نیا ٹیگ یا زمرہ بنا سکتے ہیں 😉)


17
1916
hi

0
urdu in keyboard is not working

0
وصالِ الف
فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
ہے نہ کاغذ قلم دَوات اپنی
کیسے لکھیں گے اب صفات اپنی
کہتے ہیں جس کو فطرتِ انساں
علمِ کامل ہے نفسیات اپنی
زندگی کرب میں گزاری ہے
کربلا جیسی ہے حیات اپنی
بات سنتا نہیں مری دجلہ
پیاس بجھتی نہیں فرات اپنی
تُو کسی پر فدا نہیں ہوتا
لُٹ گئی تجھ پہ کائنات اپنی
کچھ بَھرم رکھ مری غریبی کا
تجھ سے کمتر نہیں ہے ذات اپنی
لب پہ تنویر ہے یہی شکوہ
عمر گزری ہے بے ثبات اپنی
تنویر روانہ سرگودھا

وصالِ الف

مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن

روحِ بشر خدا کی قدرت ہے اور امرِ ربی ہے
آدمی کی مثال تو خاکِ سِفال جیسی ہے

0
وصالِ الف

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن

تدوین مرے قریب وہ آئے اور آ کے بیٹھ گئے
تدوین لَبِ خموش میں انگلی دَبا کے بیٹھ گئے

0
وصالِ،،،،،،،،،،،الف

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن

جب کبھی موسمِ بہار آیا
اُجڑے گلشن پہ پھر نکھار آیا
شکل و صورت وہی رہی اپنی
اِسْتِحالَہ کبھی کبھار آیا
مجھ کو حالات نے بدل ڈالا
کس لئے خود کو تُو سنوار آیا
اِستِمالت پہ یار نے جھڑکا
پھر اَساول ہے اشکبار آیا
آنسو اشکِ کباب ہیں لیکن
کب سحر خیزی کا شعار آیا
اِستِراحت کی اِستِعانت ہے
زندگی بھر نہیں قرار آیا
تجھ کو تنویر مل گئی منزل
میرے حصے میں انتظار آیا
تنویر روانہ سرگودھا

وصالِ،،،،،،،،،،،الف
پڑھ جانِ جگر دل کی کتاب اور زیادہ
کھل جائیں گے پھر درد کے باب اور زیادہ
ہو پائے گی تجھ سے نہ کبھی زخموں کی گنتی
بڑھ جائے گا آہوں کا نصاب اور زیادہ
ہر باب سنائے گا اذیت کی کہانی
الفاظ سے نکلے گا خَلاب اور زیادہ
اوراق سے مِٹ جائے گی بوسیدہ نویسی
قِرطاس ہو جائیں گے خراب اور زیادہ
بے درد کی نگری میں مرا نام نہ لینا
بے درد کو آئے گا عِتاب اور زیادہ
اِک خواب کو تعبیر سے محروم نہ کرنا
دیکھیں گی مری آنکھیں نہ خواب اور زیادہ
ہر دور میں ٹوٹی ہے غریبوں پہ قیامت
ہر دور میں پنہاں ہیں عذاب اور زیادہ
دیہات میں بڑھ جائے گا سیلاب کا خدشہ
اس سال بھی بپھرے گا چناب اور زیادہ
جم جائے گی بالائی زمیں پر غموں کی بَھل
زرخیز ہو جائے گی تُراب اور زیادہ
دِکھتا ہے جو پانی ہے فقط آنکھ کا دھوکا
اب پیاس بڑھائیں گے سراب اور زیادہ
یہ خام خیالی کی ہَوَس کم تو نہیں ہے
رغبت میں تو ٹپکے گا لُعاب اور زیادہ
ساغر میں مِلا دے کوئی تنویر کے آنسو
ہو جائے گی پُرکیف شراب اور زیادہ
تنویرروانہ

0
ماشاءاللہ زبردست آپ نے نئے شعراء کی بہت سار مشکلات کو آسان کر دیا ہے اللہ آپ سے راضی ہو۔

الف کا وصال - میر تقی میر کی مثال
بعض اوقات شاعر الف کا وصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

اس کی بہت عمدہ مثال میری تقی میر کی ایک غزل میں موجود ہے:



یہاں پر "نام آج" کی جگہ "ناماج" پڑھا جائے گا جس کو تقطیع کے نتیجے میں نارنجی رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔



#وصالِ‌الف کی یہ سہولت اس نئے ورژن میں شامل کی گئی ہے۔

(اس طرح سے کسی بھی لفظ سے پہلے # لگا کر آپ نیا ٹیگ یا زمرہ بنا سکتے ہیں 😉)

0
ٹیسٹ

0
ٹیسٹ3

0
ٹیسٹ 4

0
یہ کیا ہے؟

0
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
جب کبھی موسمِ بہار آیا
اُجڑے گلشن پہ پھر نکھار آیا
شکل و صورت وہی رہی اپنی
اِسْتِحالَہ کبھی کبھار آیا

فعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
ہے نہ کاغذ قلم دَوات اپنی
کیسے لکھیں گے اب صفات اپنی
کہتے ہیں جس کو فطرتِ انساں
علمِ کامل ہے نفسیات اپنی

دونوں سیکشنز میں منقول سارے اشعار ایک ہی بحر میں ہیں :فاعلاتن مفاعلن فعلن (نئے ارکان: فاعلن فاعلات فاعلتن یا مفعولن)۔
صاحبِ مضمون نے (پتہ نہیں کیوں) پہلے سیکشن کو فاعلاتن مفاعلن فعلن پر قرار دیا ہے اور دوسرے کو فعلاتن مفاعلن فعلن پر؟

الف کے وصال کی بجائے الف کا ایصال کہیں تو درست تر ہو گا۔

جی @yaquvassy صاحب۔ اب ایصال کر دیا ہے۔ بہت شکریہ۔

محمد یعقوب آسی
@yaqubassy صاحب،،،دونوں سیکشنز ایک ہی بحر پر مشتمل ہیں ٹائیپنگ کی غلطی ہے ،،فاعلاتن مفاعلن فعلن،،،،بہت نوازش

0