Circle Image

تنویر روانہ

@tanveer.rawana.poet.786

رَگوں میں لہو ہی لہو چل رہا ہے
بدن میں تپش ہے کہ دل جل رہا ہے
قدم بڑھ رہے ہیں بڑھاپے کی جانب
جوانی کا سورج کہیں ڈھل رہا ہے
خیالوں کے تابع رہی ہے حقیقت
حقیقت سے افضل تخیل رہا ہے

5
درد و الم سے چُور یہ ہستی مَلال جیسی ہے
غم زدہ زندگی مری آہ غزال جیسی ہے
کرب و بلا کی خاک پر جلتی مَشَال جیسی ہے
زخمی دل و جگر ہیں اور روح نڈھال جیسی ہے
روحِ بشر خدا کی قدرت ہے اور امرِ ربی ہے
آدمی کی مثال تو خاکِ سِفال جیسی ہے

0
13
جب حُسنِ مجسم کو اشعار میں ڈھالا ہے
ہر لفظ بنا تیری صورت کا حوالا ہے
عنوان بھی ساده ہے مضمون بھی سادہ ہے
کہتے ہیں کہ کاتب کا انداز نرالا ہے
اندازہ لگا لُوں گا قسمت کی سیاہی کا
اے یار تری زُلفوں کا رنگ جو کالا ہے

0
19
ہے نہ کاغذ قلم دَوات اپنی
کیسے لکھیں گے اب صفات اپنی
کہتے ہیں جس کو فطرتِ انساں
علمِ کامل ہے نفسیات اپنی
زندگی کرب میں گزاری ہے
کربلا جیسی ہے حیات اپنی

0
18
مرے قریب وہ آئے اور آ کے بیٹھ گئے
لَبِ خموش میں انگلی دَبا کے بیٹھ گئے
کہ بیٹھا کوئی مجاور مزارِ عشق پہ ہو
یوں میرے قدموں میں وہ سَر جُھکا کے بیٹھ گئے
تَھکا چُکا تھا اُنھیں اپنی زندگی کا سفر
ہمارے ساتھ وہ تکیہ لگا کے بیٹھ گئے

0
22
اِک قافلہ ٹھہرا تھا کربل کے وِرانے میں
سب لوگ جِسے کرتے ہیں یاد زمانے میں
دجلہ کے کنارے پر شبیر کے تھے خیمے
سرگرم تھے قاتل بھی وہاں خون بہانے میں
حرمت کا بھرم رکھنا پردیس میں اے مولا
سید کا بسیرا ہے کربل کے وِرانے میں

20
ہے غم سے نڈھال روح مولا حسین کی
کبھی اُجڑی تھی یہاں پہ دنیا حسین کی
گرم آگ کا ہیولا سا بن گئی ہوا
جلا یاد میں وجودِ صحرا حسین کی
کی شبیر نے لہو سے سیراب کربلا
بجھائی پیاس کیوں نہ دریا حسین کی

21