Circle Image

محمد فیصلؔ

@Muhammadfaysal123

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

چشمِ نم بھی نہیں جامِ تر بھی نہیں
اس جہاں میں کہیں میرا گھر بھی نہیں
تجھ سا چہرا ملا نہ کہیں بھی مجھے
تیرے در سا ملا کوئ در بھی نہیں
یہ الگ بات تجھ سے محبت بھی ہے
یہ الگ بات تجھ کو قدر بھی نہیں

0
32
ہاتھ میں تھام کر گلاب آئے
یاروں کیا لے کے کچھ خراب آئے
آنکھ میں رہتی ہے حیا اور پھر
جسم سے خوشبوئے گلاب آئے
تجھ کو دیکھا تو لوگوں نے بولا
لگتا ہے پی کے ہیں شراب آئے

0
20
ترے جیسے لاکھوں صنم دیکھتے ہیں
کبھی چاہتوں کو جو ہم دیکھتے ہیں
وہی درد دل میں رقم دیکھتے ہیں
کہ ہر زخم میں تیرا غم دیکھتے ہیں
زمانے پہ تیرا بھرم دیکھتے ہیں
ترا نام تیری قسم دیکھتے ہیں

0
18
ہمیں اب ترا غم چھپانا نہیں ہے
مگر حال دل کچھ سنانا نہیں ہے
نہ جانے وہ کیسا سکوں مانگتا ہے
کہ رو کر بھی دل کو رلانا نہیں ہے
نظر اس پہ پڑتی تو ہے اپنی لیکن
نظارہ ابھی وہ دکھانا نہیں ہے

0
26
تیری محفل میں ہم رہ گئے ہیں
ہوتے ہوتے کرم رہ گئے ہیں
دل پہ نقشِ قدم رہ گئے ہیں
لاکھ ہو کر بھی کم رہ گئے ہیں
میرے دل میں ابھی کچھ جگہ ہے
تیرے جیسے صنم رہ گئے ہیں

0
32
یاد آتا ہے بہت ہم کو جلانا دل کا
ہائے وہ زخم وہ راتیں وہ ستانا دل کا
خود کو وحشت میں کیا ہم نے تماشا آخر
کھو دیا ہم نے جسے تھا وہ خزانا دل کا
جو نظر تم سے ملی مجھ کو نہ کچھ ہوش رہا
اتنا آسان ہے کیا تم سے ملانا دل کا

0
40
بے وفا وہ نہیں بے وفا ہے مگر
ایسے بھیدوں میں کچھ مدعا ہے مگر
اپنا ہر زخم بھر تو گیا ہے مگر
میرے دل میں ابھی درد سا ہے مگر
اس نگر میں نہ کچھ لو چلی ہے ابھی
دل چراغوں سا جل کے بجھا ہے مگر

0
52
اک زمانہ ہوا تم کو دیکھا نہیں
تیری یادوں میں کچھ ہم نے لکھا نہیں
ہم تمہیں بھولے ہیں اور نہ یاد کیا
تم کو لگتا ہے پر میں تو تم سا نہیں
یہ قلم کچھ قدم تیرے ساتھ چلا
تو جو جائے تو پھر یہ بھی چلتا نہیں

0
35
تیرے غم نے ہمیں بھی رلایا بہت
دوستوں نے ہمیں بھی ستایا بہت
اس نے پھر بھی اسی سے گلہ کر دیا
میں نے دل کو تو تھا آزمایا بہت
اب تو آنسو بھی ہنس کر نکل جاتے ہیں
ہم نے ہر داغ کو ہے سجایا بہت

0
50
کبھی تیرا دل بھی ہمارا ہوا تھا
مگر پھر ہمارا کنارا ہوا تھا
مجھے بھی کبھی تیری یادوں نے تھاما
میں تم سے بھی بڑھ کر تمہارا ہوا تھا
نظر اس فلک کو دکھاتی تھی اپنی
وہی شخص اپنا ستارہ ہوا تھا

0
62
محبت مری دللگی بن گئ ہے
خودی جو ملی بے خودی بن گئ ہے
تری بے رخی کچھ غمی بن گئ ہے
تو نے ہنس کے دیکھا خوشی بن گئ ہے
تری زلف سے اک جو گیسو گرا تھا
گلابوں کی وہ اک کلی بن گئ ہے

0
58