ہاتھ میں تھام کر گلاب آئے
یاروں کیا لے کے کچھ خراب آئے
آنکھ میں رہتی ہے حیا اور پھر
جسم سے خوشبوئے گلاب آئے
تجھ کو دیکھا تو لوگوں نے بولا
لگتا ہے پی کے ہیں شراب آئے
ہم بھی آنکھوں سے پی لیں گے واعظ
سامنے جو وہ بے نقاب آئے
دور ان سے بھی رہ کے دیکھا پر
دل میں وہ آئے بے حساب آئے
آپ یوں ہم سے ہیں خفا کیوں کر
ہم بھی کیا کر کے کچھ خراب آئے
رکھ دوں میں جان اپنی قدموں میں
در پہ میرے جو وہ جناب آئے
رکھ دوں گا نام تیرا بھی فیصلؔ
گر نظر سے تو پی شراب آئے

0
6