تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
اے منشئ خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
عصفور ہے تو مقابلِ باز نہ ہو
آواز تیری نکلی اور آواز کے ساتھ
لاٹھی وہ لگی کہ جس میں آواز نہ ہو
اے منشئ خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
0
268
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
ثاقب! حرکت یہ کی ہے بے جا تم نے
حاجی کلّو کو دے کے بے وجہ جواب
غالبؔ کا پکا دیا ہے کلیجا تم نے
رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
0
282
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے
بھیجے ہیں جو اَرمُغاں شہِ والا نے
گِن کر دیویں گے ہم دُعائیں سَو بار
فیروزے کی تسبیح کے ، ہیں یہ دانے
اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے
0
261
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے
کرتے ہیں دِرنگ ، کام کرنے والے
کہتے ہیں کہیں خدا سے ، اللہ اللہ!
وُہ آپ ہیں صُبح و شام کرنے والے !
ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے
0
325
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا
اِتنے ہی برس شُمار ہوں ، بلکہ سِوا
ہر سیکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
ایسی گرہیں ہزار ہوں ، بلکہ سِوا
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا
0
378
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
تا شاہ شیوعِ دانش و داد کرے
یہ جو دی گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
ہے صِفر کہ افزائشِ اعداد کرے
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
0
461
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دال
ہے لُطف و عنایاتِ شہنشاہ پہ دال
یہ شاہ پسند دال بے بحث و جِدال
ہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دال
0
601
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لئے
وحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لئے
یعنی ہر بار صُورتِ کاغذِ باد
ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لئے
ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لئے
0
318
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
دل تھا ، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی
بیتابئ رشک و حسرتِ دید سہی
ہم اور فُسُردن اے تجلی افسوس
تکرار روا نہیں تو تجدید سہی
دل تھا ، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی
0
513
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں ؟
آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں ؟
روزہ مِرا اِیمان ہے غالبؔ ! لیکن
خَسخانہ و برفاب کہاں سے لاؤں ؟
سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں ؟
0
519
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں
عُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیں
جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہوگا
کیونکر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں !
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں
0
311
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم
آثارِ جلالی و جمالی باہم
ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہم
ہے اب کے شبِ قدر و دِوالی باہم
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم
0
298
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل وگر نگویم مشکل
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
0
736
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
1
249
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال
ہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حال
تھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئی
لڑکوں کے لئے گیا ہے کیا کھیل نکال !
آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال
2
227
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
دل رُک رُک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ *
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سَوگند ہو گیا ہے غالبؔ
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
2
455
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا
اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا
پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا
0
594
29 جولائی 2020
رباعی
مرزا غالب
شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا
کیا شرح کروں کہ طُرفہ تَر عالَم تھا
رویا میں ہزار آنکھ سے صُبح تلک
ہر قطرۂ اشک دیدۂ پُرنَم تھا
شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا
0
353
29 جولائی 2020
غزل
مرزا غالب
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق اور وہ بےزار
یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
0
3704
29 جولائی 2020
غزل
مرزا غالب
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
کوئی امید بر نہیں آتی
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
2
18241
»
28
27
26
25
...
1
«
معلومات