بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے
تکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
1075
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہ
تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
3328
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
سرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلۂ آواز ہے
پیکرِ عشّاق سازِ طالعِ نا ساز ہے
نالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے
دست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنا
یک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
529
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے
اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
میناۓ مے ہے سروِ نشاطِ بہار سے
بالِ تَدَر و جلوۂ موجِ شراب ہے
زخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کا
نے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


903
دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت​
درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے​
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت​
تمہیدِ مسرت ہے کہ طولِ شبِ غم ہے​
جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں​
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علَم ہے​

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1711
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
حورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
ساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہم
ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


1400
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغ
تکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی
وہ بادۂ شبانہ کی سر مستیاں کہاں
اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


2454
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
2960
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
1342
کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
برقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے
غنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلوم
باوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے
ہم سے رنجِ بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
داغ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بہ دنداں ہے

فاعِلن مفاعیلن فاعِلن مفاعیلن


899
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے
نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوم
لے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے
کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستارئ وہم
کر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


669
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
2252
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیا
میں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مے
مدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


1538
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
1657
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
صبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جی
جس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے
مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیال
تا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
901
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
2140
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے
نبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
ورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغِ کشتہ ہے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
490
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے
جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
713
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
792
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو* بھی مٹ گیا
ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوں
ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہر کوئی در ماندگی میں نالے سے ناچار ہے

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
675