چھت پہ چاند اور چمن میں وہ گلِ رو نکلے
کیسے کیسے ترے دیدار کے پہلو نکلے
مری بینائی کو وہ دستِ ہنر دے مولیٰ
کھولوں مٹھی تو مرے ہاتھ سے جگنو نکلے
نہیں آتا فنِ اظہارِ محبت لیکن
جب ترا نام لکھوں لفظوں سے خوشبو نکلے
فطرتاً تو نہیں میں ایک ہی غم کا خوگر
کیا کروں میں کہ ہر اک سمت تو ہی تو نکلے
ناز ہو کیوں نہ مجھے ان کی لگاوٹ پہ بھلا
چاند سا حسن ہے اور بول بھی اردو نکلے
ہے بنا تکیہ مرے خواب کی شہزادی کا
مجھ سے بیمار کے بھی، کام کے بازو نکلے
کاغذی پھولوں سے خوشبو تو نہیں آتی مگر
شعر ایسے ہیں کہ کاغذ سے بھی خوشبو نکلے

2
26
بہت خوب۔۔
ناز ہو کیوں نہ مجھے ان کی لگاوٹ پہ بھلا
چاند سا حسن ہے اور بول بھی اردو نکلے

بہت شکریہ، محترم!

0