نبی جی نبی جی ندا کر اے دل تو
مدینہ میں پہنچوں صدا کر اے دل تو
ہو یادِ نبی میں بسر زندگی یہ
سدا ذکرِ صلِّ علیٰ کر اے دل تو
نظر سبز گنبد پہ آئے جو میری
حسیں آئے موقع ثنا کر اے دل تو
میں روضہ نبی کا جو دیکھوں مقابل
جھکیں نظریں میری دعا کر اے دل تو
ہے بارانِ رحمت نبی کی گلی میں
عطا کے لئے مدعا کر اے دل تو
لئے من میں کامل امیدِ شفاعت
سخی مصطفیٰ مصطفیٰ کر اے دل تو
غلامی میں اُن کی ہے محمود راضی
ہمیشہ انہی سے وفا کر اے دل تو

2
19
خلاصہ

یہ نعتیہ کلام حضورِ اکرم ﷺ کی محبت، مدینۂ منورہ کی حاضری کی آرزو، اور ذکر و اطاعتِ رسول ﷺ کا پُرخلوص اظہار ہے۔ شاعر اپنے دل کو مخاطب کرتے ہوئے اسے مسلسل درود و سلام، یادِ مصطفیٰ ﷺ اور مدینہ کی حاضری کی تمنا میں زندہ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ کلام میں روضۂ اقدس کی حاضری، سبز گنبد کے دیدار، رحمتِ نبوی ﷺ، اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کی امید کو نہایت عقیدت سے بیان کیا گیا ہے۔ اختتامی شعر میں شاعر اپنے تخلص "محمود" کے ذریعے اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ کی غلامی، محبت اور وفاداری ہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔

ماشاءاللہ بہت خوب

0