•─═══﷽═══─•

سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(1)

شاعر: کیف بھوپالی

════❁✿❁════

تعارف:

قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر کیف بھوپالی نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔

ملاحظہ فرمائیے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبھی خوبی، سبھی تعریف ہے اللہ کو زیبا

بزرگی ہے اُسی آقائے عالی جاہ کو زیبا


وہ ہے سارے جہانوں کا خُدائے برتر و بالا

برابر ساری مخلوقات کا ہے پالنے والا


بہت ہی مہرباں ہے وہ، بڑا ہی مہرباں ہے وہ

سدا رحمت فشاں، رحمت فشاں، رحمت فشاں ہے وہ


وہی روزِ قیامت کا اکیلا حکمراں ہوگا

کسی کا مشورہ ہوگا نہ کوئی درمیاں ہوگا


خُداوندا! ترے آگے ہم اپنا سر جُھکاتے ہیں

تُجھی کو پُوجتے ہیں بس، تُجھی سے لو لگاتے ہیں


خُداوندا! تُجھی سے چاہتے ہیں ہم مددگاری

تُجھے آتی ہے اپنے آرزو مندوں کی دلداری


دِکھا دے ہم کو سیدھی راہ، سیدھی راہ پر لے چل

جنہیں تُو نے نوازا ہے، انہی کی راہ پر لے چل


نہ ان کی راہ پر لے چل، خُدائی مار ہے جن پر

تری پھٹکار ہے جن پر، تری دھتکار ہے جن پر


نہ ان کی راہ پر لے چل، بھٹک کر رہ گئے ہیں جو

ملمع کی طرح چمکے، چمک کر رہ گئے ہیں جو

❁❁❁

حوالہ: مفہوم القرآن(ص:3)

نوٹ:اس نظم کی نسبت بعض لوگوں نےحاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی طرف کی ہے جو کہ درست نہیں۔


3
111
آغاز ہے اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ہے
رحمت کا دریا ہے، عطا میں بے پایاں ہے

سب جہانوں کا پروردگار وہی ہے
مالکِ روزِ جزا، اختیار سب اسی کا ہے

ہم تیری ہی عبادت کریں، تجھی سے مدد مانگیں
راہِ حق کی پہچان دیے ہدایت دے ہمیں

ان لوگوں کی جن پر تیری نوازشیں اتریں
نہ ان کی راہ، جن پر غضب کی بجلیاں گریں

نہ بھٹکے ہوئے، نہ راہیِ گمراہی کے
بلکہ سیدھے راستے، روشنی کی پناہی کے

ثنا تیری ربالعالمین
اے رحیم مالک یوم الدین
ہم تیری عبادت کرتے ہیں
اور تیری مدد پر ہی ہے یقین
ہم کو دکھا رستا جو ہو سیدھا
جس پر تری نعمتوں کا ہو مکین
نہ کے انکا راستا جو کے ہو ئے
گم راہ گنہگار اور لعین

سورۃ الفاتحہ کا منظوم ترجمہ حاظر خدمت ہے- اس میں وزن کی کچھ خامیاں ہیں مگر بچوں کے لئے شائید یہ کافی ہے- میں اسکو موزوں کرنے کی کوشش کروںگا، اگر کوئی اور اسکی اصلاح کرے تو بڑی مہربانی ہو گی-



ثنا تیری ر بِ عالمین
اے رحیم ملک یوم الدین
ہم تیری عبادت کرتے ہیں
اور تیری مدد پر ہی ہے یقین
ہم کو دکھا رستا جو ہو سیدھا
جس پر تری نعمتوں کا ہو مکین
نہ کے انکا راستا جو کے ہو ئے
گم راہ گنہگار اور لعین


یہ کچھ بہتر ہے-
پہلے مصرع میں تھوڑاساوزن گرتا ہے، باقی سب ٹھیک ہے۔