Circle Image

تنویر احمد

@tanveern

پھرتے ہیں دشت دشت ترے غم کے مارے ہم
اب تک نہ اپنے دل سے ہوئے ہیں کنارے ہم
اک درد تھا سو شہرِ تمنا میں بس گیا
کرتے پھرے ہیں عمر بھر اس کے سہارے ہم
دل کی خرابیاں تھیں کہ ویران ہو گئے
ورنہ تھے شہر زیست کے روشن منارے ہم

0
9
دل اُٹھ گیا ہے شہرِ بتاں، جاں ستاں سے اب
بیٹھے ہیں جا کے گوشۂ درد و فغاں سے اب
آتی نہیں ہے بُو بھی کسی آشنائی کی
وحشت سی ہو رہی ہے ہمیں اس مکاں سے اب
ہم اشک تھے سو خاک میں آخر ملا کیے
دریا الگ ہے ورنہ نہیں آسماں سے اب

0
7
تیری رحمت کا طلبگار بھی ہوں
اور خطاؤں پہ شرمسار بھی ہوں 
تجھ سے مانگوں بھی تو کس منہ سے
کیا کروں میں کہ گنہگار بھی ہوں
پُر خطا نادِم و نالاں بھی ہوں
میرے ستار ! خطاکار بھی ہوں

38
عشق جو دار تک نہیں پہنچا
اوج کردار تک نہیں پہنچا
رنگ ہو نور ہو کہ مہ پارہ
چشم مے خوار تک نہیں پہنچا
اس کا کھلنا عبث ہے گلشن میں
گل جو دستار تک نہیں پہنچا

29