| دل اُٹھ گیا ہے شہرِ بتاں، جاں ستاں سے اب |
| بیٹھے ہیں جا کے گوشۂ درد و فغاں سے اب |
| آتی نہیں ہے بُو بھی کسی آشنائی کی |
| وحشت سی ہو رہی ہے ہمیں اس مکاں سے اب |
| ہم اشک تھے سو خاک میں آخر ملا کیے |
| دریا الگ ہے ورنہ نہیں آسماں سے اب |
| اس نے تو اپنے ہاتھ سے اک پھول تھا دیا |
| خوشبو نہیں گئی مرے دستِ فغاں سے اب |
| ویرانیاں تھیں، شورِ قیامت بھی کم نہ تھا |
| اُٹھتا ہے ایک درد مرے نیم جاں سے اب |
| اک برگِ خشک تھا سو ہوا لے اڑی اسے |
| کیا پوچھتے ہو حال مرے کارواں سے اب |
| دل بھی عجب خراب متاعِ سفر ہوا |
| جاتا نہیں ہے کوچۂ نام و نشاں سے اب |
معلومات