پھرتے ہیں دشت دشت ترے غم کے مارے ہم
اب تک نہ اپنے دل سے ہوئے ہیں کنارے ہم
اک درد تھا سو شہرِ تمنا میں بس گیا
کرتے پھرے ہیں عمر بھر اس کے سہارے ہم
دل کی خرابیاں تھیں کہ ویران ہو گئے
ورنہ تھے شہر زیست کے روشن منارے ہم
وہ دن گئے کہ بزم میں رونق تھی ہم سے بھی
اب اپنی خامشی سے بھی لگتے ہیں ہارے ہم
دنیا کے ظلم سہ کے بھی زندہ رہے مگر
تیرے خیالِ ناز سے ٹوٹے ہیں سارے ہم
اک آہ تھی سو عرش تلک جا کے رہ گئی
اک اشک تھا سو بہتے رہے اس کے دھارے ہم
ناصرؔ کسی کے ہجر نے یہ حال کر دیا
جیسے کسی مزار پہ جلتے ستارے ہم

0
9