Circle Image

رانا جاوید اقبال وقارؔ

@rjiqaher

سنتے سناتے غیر کی بابت چلے گئے
یوں قصّہ خوانِ عہدِ رفاقت چلے گئے
اُٹھتی نظر کو جیت ہی پیشِ نظر رہی
لے کر نگاہِ مات سے رخصت چلے گئے
اعزاز ہائے قلبِ حزیں روندتے ہوئے
مَہْوِ نشاطِ وصفِ رقابت چلے گئے

0
198
گردِ غفلت اتار لیتے ہیں
خاک اپنی سنوار لیتے ہیں
تشنگی ہو حیات کا مسکن
دل کا دریا اُتار لیتے ہیں
غم سے سچی خوشی نکلتی ہے
دُکھ کو اتنا سنوار لیتے ہیں

0
48
یوں نازاں ہے تری قدرت پہ محتاجی ہماری
تو تھکتا بھی نہیں کر کے نگہبانی ہماری
دیارِ قربتِ حق میں رہے سجدہ سلامت
قرینِ عجز بھی یاربّ ہو پیشانی ہماری
نگاہِ اہلِ عالم نے ہمیں انجان رکھا
کہ ہم نے ہی نہیں کچھ قدر پہچانی ہماری

0
68