| سنتے سناتے غیر کی بابت چلے گئے |
| یوں قصّہ خوانِ عہدِ رفاقت چلے گئے |
| اُٹھتی نظر کو جیت ہی پیشِ نظر رہی |
| لے کر نگاہِ مات سے رخصت چلے گئے |
| اعزاز ہائے قلبِ حزیں روندتے ہوئے |
| مَہْوِ نشاطِ وصفِ رقابت چلے گئے |
| احساسِ زعم خاطرِ صد میزباں رہا |
| مہمان زیرِ بارِ مروت چلے گئے |
| ہو تو گئی تھی صحبتِ بے درد آشکار |
| کُھلتے بے سود رازِ مَعِیّت چلے گئے |
| دم سادھ کے مقیمِ غمِ بیکسی رہے |
| آئے ہجوم ہائے بشاشت چلے گئے |
| پہچان گُھل کے مٹ گئی جیسے ملال میں |
| مٹتے یہ داغِ وجہِ ملامت چلے گئے |
| بے رنگ ہو کے اڑ گئی بیدادِ بے حسی |
| جب دار تک با رنگِ شرافت چلے گئے |
| اتنے الم خوشی سے رہے تاکتے کہ ہم |
| ملنے غموں کو وقتِ مسرت چلے گئے |
| یوں لہلہا اٹھی کبھی فصلِ بہارِ دل |
| چہرہ دھلاتے اشکِ ندامت چلے گئے |
| آسودگی میں کھو گئی آسودگی کہیں |
| راحت کے دن جو باعثِ راحت چلے گئے |
| مایوسیوں نے وقت کو معدوم کر دیا |
| یک لخت حوصلے کفِ ساعت چلے گئے |
| پھر جگمگا اٹھی کوئی اُمیدِ زندگی |
| پژمردگی سے شکوے شکایت چلے گئے |
| کچھ ہو گئے خیانتِ ہستی کے مرتکب |
| اور کچھ نبھا تے کارِ امانت چلے گئے |
| انجامِ کار پا گئے برّاق و تاب ناک |
| جو ظلمتوں کی کرتے ضیافت چلے گئے |
| ان کو بھی خود امید نے دکھلا دیا وطن |
| جو بے خودی میں کوچۂِ حسرت چلے گئے |
| سچ کی امان سے ملی پنہاں سلامتی |
| حق کی اماں میں سُوئے صداقت چلے گئے |
| کیا معجزہ نہیں تھا کہ داماں سمیٹ کر |
| پُرخار زندگی سے سلامت چلے گئے |
| چلتے کسی سراب کی جانب وقارؔ کیا |
| صحرا نورد وادیِٔ رحمت چلے گئے |
معلومات