Circle Image

توصیف قاسم اقبال

@Tauseef

ہو چکی شام کہ اک دیپ جلایا جائے
پی کے اک جام غمِ یار بھلایا جائے
کوئی ترکیب بتا دے ہمیں جاتے جاتے
کس طرح نقش ترا دل سے مٹایا جائے
جب بھی پیتے ہیں تو دل میں یہ خیال آتا ہے
کیسے دامن تری یادوں سے چھڑایا جائے

3
خط تمہارے مدتوں سے پڑھ رہا ہوں
زندگی کی سیڑھیاں یوں چڑھ رہا ہوں
آج بھی راہیں تمہاری دیکھتا ہوں
آج بھی جانب تمہاری بڑھ رہا ہوں

0
9
دنیا سے ختم ہوگئیں بے لوث الفتیں
یہ آج کل کا پیار تو مطلب کا پیار ہے

0
11
غمزدہ غمزدہ میری عمرِ رواں
شش جہت ہیں سنیں میری آہ و فغاں
درد چہرے پہ، تر آنکھ، دل غمزدہ
پابز نجیر ہوں جسم ہے ناتواں
سر زنش یوں کہ جیون بناغم کدہ
اور میسر رہے نا سمجھ ہم عناں

0
13
تری یادیں ستاتی ہیں مجھے شب بھر جگاتی ہیں
اگر میں عشق نہ کرتا تو کب کا سو چکا ہوتا

0
18
ہماری وفائیں بھلاؤ گے کیسے
یہ جیون اکیلے بتاؤ گے کیسے
تمہیں یاد آئے گی ہر پل ہماری
تو یادوں کو دل سے مٹاؤ گے کیسے
مرے ساتھ گزرے دنوں کی کہانی
زمانے کو یارم سناؤ گے کیسے

0
27
خود کو نقش بر آب دیکھا تھا
زندگی بھر عقاب دیکھا تھا
اک فرشتے کی آرزو کر کے
ہم نے اسکا عتاب دیکھا تھا
باتوں باتوں میں ٹالنے والا
ہم نے حاضر جواب دیکھا تھا

0
18
اسکی آنکھیں کمال کرتی ہیں
جانے کتنے سوال کرتی ہیں
اسکے ہونٹوں پر ان کہی باتیں
میرا جینا محال کرتی ہیں
اسکی زلفیں گھنی گھنیری سی
جانے کیا کیا وبال کرتی ہیں۔

0
68