Circle Image

Osama Zia Bismil

@Osamaziabismil

وہ دشتِ جاں میں آج بھی دہائی دے رہا ہے کیوں؟
اسے امید کا نشاں دکھائی دے رہا ہے کیوں
مجھے تو کچھ خبر نہیں حدوں سے ماورا ہے کیا
وہ اپنے قید و بند سے رہائی دے رہا ہے کیوں؟
طلب ہے تخت و تاج کی نہ بستیوں پہ راج کی
گدائی مانگتا ہوں میں خدائی دے رہا ہے کیوں؟

0
8
سوالی ہیں کوچہء و بازار میں
یہ دن بیت جاتا ہے تکرار میں
اجالا چراغوں کا بڑھتا نہیں
سحر کی تجلّی سے مقدار میں
ابھی آشنائی کا آغاز تھا
ہوئے بے تکلف وہ اظہار میں

0
7
جدا ہوئے بھی تو آپس میں دوستانہ ہو
خلش سے آشنا ہر گز نہ یہ زمانہ ہو
پھر اک تو یہ بھی تقاضا ہے والہانہ ہو
تمھارا حال بیاں ہو تو شاعرانہ ہو
تم ایک خواب کی دوری پہ مل بھی سکتے ہو
شبِ فراق تو ممکن ہے اک بہانہ ہو

0
44
وہ کب سے کھیل رہا ہے مرے مزاج کے ساتھ
حساب دیگا پرانے سبھی خراج کے ساتھ
پرائے شہر میں من مانیاں نہیں کرتے
مذاق یوں نہیں چلتا یہاں رواج کے ساتھ
بس ایک شخص ہے محور مری محبت کا
کریں گے اور بھی کیا اتنے کام کاج کے ساتھ

0
58
ہم سے پہلے بھی کئی لوگ رہے وابستہ
مکتبِِ عشق میں ہم لوگ نہیں نووارد
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
گھومتے پھرتے ہیں ہم شکل یہاں پر حاسد
داد گر کیوں ترے چہرے پہ غضب طاری ہے
مجھ پہ الزام کوئی اور نہ کرنا عائد

3
100
ہم سے پہلے بھی کئی لوگ رہے وابستہ
مکتبِِ عشق میں ہم لوگ نہیں نووارد
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
گھومتے پھرتے ہیں ہم شکل یہاں پر حاسد
داد گر کیوں ترے چہرے پہ غضب طاری ہے
مجھ پہ الزام کوئی اور نہ کرنا عائد

2
85
خدا سنے گا بہت جلد التجاؤں کو
زمانہ لاکھ دبائے مری صداؤں کو
شکست صرف ضعیفوں کے بخت میں ہی نہیں
ہوئی ہے مات کئی بار سورماؤں کو
رُتیں بہار کی چہرے پہ کیوں دکھائی دیں
کئے ہیں دان جو لمحے سبھی خزاؤں کو

0
82
حالات کا بہانہ بناکر نکل گئے
یوں ظلم کا نشانہ بنا کر نکل گئے
کیا فتنہ گر تھے ایک ہی دن کا قیام تھا
بستی قمار خانہ بنا کر نکل گئے
ہر موڑ پر شکست کے آثار تھے مگر
انداز فاتحانہ بنا کر نکل گئے

1
193
وقت گزرا ہے یا گزارا ہے
فیصلہ جو بھی ہے تمھارا ہے
مدتوں بعد خواب میں آئے
کیا یہ ملنے کا استعارا ہے؟
دسترس میں نہیں اگر دنیا
کیوں زمیں پر ہمیں اتارا ہے

140
ایک مرہم بھی لا نہیں سکتے
زخمِ دل کو چھپا نہیں سکتے
تھا وہ مصروفِ زندگی اور ہم
فکر اپنی دِلا نہیں سکتے
پوچھنا وہ روا نہیں رکھتے
حالِ دل ہم بتا نہیں سکتے

0
101
بھٹک رہے ہیں مسافر دیارِ ظلمت میں
ہوا کی زد پہ چراغوں نے جان دے دی ہے

0
118
مسئلہ کوئی بھی ہو حل بڑے آرام سے ہو
غرض ہر فرد کو اپنے ہی اگر کام سے ہو
تذکرہ تیری جفاؤں کا بھی لازم ٹھہرا
غم کے ماروں کو دلاسہ مرے انجام سے ہو
عقل ہر درد کا احساس کہاں کرتی ہے
روح انجان اگر اپنے ہی اندام سے ہو

0
150
درد لذت میں ڈھل گیا ہوگا
لطف لینے میں کیا برا ہوگا
کیا خبر تھی ترے ٹھکانے تک
زندگانی کا فاصلہ ہوگا
دل میں رنجور ہیں سہی لیکن
کون تیرا مرے سوا ہوگا

0
127
قیامت کا منظر دکھائی دیا ہے
ہمیں ایسا اکثر دکھائی دیا ہے
وہ کہتے ہیں جس کو فقط دوستی ہے
کوئی اور چکر دکھائی دیا ہے
میں فاتح رہا ہوں مگر ایسا کیوں یے
مقدر مکدر دکھائی دیا ہے

0
121
اسے پابندِ اجالا کیا جا سکتا ہے
کوئی مصنوعی سویرا کیا جا سکتا ہے
ہے وہ بحران، حواسوں پہ خدا خیر کرے
کیا کسی روز دھماکا کیا جا سکتا ہے؟
آج ممکن ہی نہیں کام یہ کل سے ہوگا
ہاں مگر دل سے تہیہ کیا جا سکتا ہے

0
136
تری گلی سے جڑے راستے ہزاروں ہیں
قدم قدم پہ مگر مسئلے ہزاروں ہیں
بدل بدل کے مجھے عکس کیا دکھاتا ہے
مرے ضمیر ترے آئینے ہزاروں ہیں
نفیس کوچہ و بازار ہیں تو کیا حاصل
سفر سے پاؤں میں جو آبلے ہزاروں ہیں

0
163
یہ بتانا انہیں کیا ضروری نہیں؟
دور جتنے بھی ہوں دل سے دوری نہیں
جبکہ تیرا تقاضا ہے شنوائی ہو
اور تری ذات میں جی حضوری نہیں؟
ہاں سماعت کو محسوس ہوگا مگر
یہ کہانی کہیں سے ادھوری نہیں

102
غلط قصہ سنایا جا رہا ہے
کوئی فتنہ اٹھایا جا رہا ہے
وہی تکرار ہے موسم کی لیکن
بہار اب کے منایا جارہا ہے
اگر دعویٰ شناسائی کا ہے پھر
تکلف کیوں اٹھایا جارہا ہے

150
جب سے ہم جدا ہوئے
خود سے آشنا ہوئے
وہ خدا نما ہوئے
جن پہ ہم فدا ہوئے
لوگ بارہا دفعہ
عشق میں فنا ہوئے

2
205