وہ دشتِ جاں میں آج بھی دہائی دے رہا ہے کیوں؟
اسے امید کا نشاں دکھائی دے رہا ہے کیوں
مجھے تو کچھ خبر نہیں حدوں سے ماورا ہے کیا
وہ اپنے قید و بند سے رہائی دے رہا ہے کیوں؟
طلب ہے تخت و تاج کی نہ بستیوں پہ راج کی
گدائی مانگتا ہوں میں خدائی دے رہا ہے کیوں؟

0
2