کتنا حسیں نبی کا یہ آستان ہے
روشن ضمیر جس سے روحِ جہان ہے
ملا ہے گھونسلہ جو شہرِ حبیب میں
برتر حسیں محل سے یہ آشیان ہے
الطاف بٹ رہے ہیں بابِ رسول پر
مظہر جو فیض کا ہے وہ مہر بان ہے
رحمت جو عالمیں کی عالی جناب ہیں
انہی کے نغمے گاتا یہ آسمان ہے
ہے ذات اُن کی بالا ادراکِ خرد سے
قرآن ہی نبی کے شایانِ شان ہے
توصیفِ مصطفیٰ ہے قرآنِ کبریا
سردارِ انبیا جو شاہِ زمان ہے
محمود لاکھ پردے حسنِ حضور پر
واحد خدا ہی جانے جو اُن کی آن ہے

0
2