غزل
دل سے دل کی جب بہم ہونے لگی
گفتگو بھی کم سے کم ہونے لگی
نا سمجھ، حساس دل، بے فائدہ
ہنستے ہنستے، آنکھ نم ہونے لگی
پیش گوئی ہے بڑے طوفان کی
موج میں پھر موج ضم ہونے لگی
پُر گھٹن ماحول ہے لمبا سفر
دِل گرانی ہر قدم ہونے لگی
چھوڑ کر عشرت، فقیری کی طلب
اَوک میری جامِ جم ہونے لگی
آشنا جب سے ہُوا پیرِ مغاں
دَھم دَھما دَھم، دَم بہ دَم ہونے لگی
شاخ ایسی سے مماثل ہو شہاب
بوجھ سے میووں کے خم ہونے لگی
شہاب احمد
۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶
رمل مسدس محذوف
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن

0
34