| میں اپنی عمر کو برباد بھی نہیں کہتا |
| کہ میرے ہاتھ سے کتنے چراغ روشن ہیں |
| مگر یہ روشنی میری گواہ ہو کیسے |
| کہ میرے اپنے ہی کچھ خواب آج مدفن ہیں |
| میں لوٹ جاؤں تو کس موڑ سے سفر بدلوں؟ |
| کہ ہر قدم پہ کسی کی حیات رکھی ہے |
| میں اپنے خواب کی خاطر کسے مٹا ڈالوں؟ |
| ہر ایک راہ میں میری ہی ذات رکھی ہے |
| نہ اپنی زیست پہ افسوس کا جواز ہی ہے |
| نہ اس پہ شکر کی صورت میں کوئی حرفِ تمام |
| میں جس کو کھو کے بھی خود کو گنوا نہیں سکتا |
| اسی کو پا کے بھی خود کو بچا نہیں سکتا |
معلومات