عَرَب کے ایک اُمِّی نے وہ رازِ کُنْ فکاں کھولے
عِلْم والے ہیں سب سکتے میں کوئی کیا زباں کھولے
وہ حرفِ لَا سے باطل کے محل سارے گرا ڈالے
الَّا اللّٰہُ سے وحدت کے سبھی اُس نے نشاں کھولے
مدینے کی زمیں پر جب رکھا پیارا قدم اُس نے
زمانے بھر کی قسمت نے سعادت کے مکاں کھولے
جہالت کے اندھیروں میں تھی ڈوبی نوعِ انسانی
تری تعلیم نے بشری بصیرت کے جہاں کھولے
درود اُن پر کہ جن کے ذکر سے روشن ہیں سب راہیں
اُنہی کے دم سے حق نے رحمتوں کے آسماں کھولے
عتیقؔ اُن کے کرم پر ہے بڑا نازاں دلِ مُضْطَرّ
گنہگاروں پہ آقا نے کرم کے کہکشاں کھولے

7