بدل گیا ہے تمہارا لہجہ، ابھی تو قربت نئی نئی ہے
بچھڑنے والوں سے پوچھنا پھر، یہ کیسی وحشت نئی نئی ہے
پرانے پیڑوں کی چھاؤں ڈھونڈو، یہ دھوپ تم کو جلا نہ ڈالے
شجر جو تم نے لگایا تھا، اس کی بھی مروت نئی نئی ہے
وہ جن کے لہجے میں عاجزی ہے، وہی بڑے ہیں زمانے میں بھی
تمہارے ماتھے پہ یہ تکبر، ابھی تو بیعت نئی نئی ہے
ہزاروں طوفان دیکھے ہم نے، تلاطموں سے مِلی ہے راحت
تمہاری کشتی بھی ڈگمگائے گی، اور یہ ہجرت نئی نئی ہے
کھلے ہیں دربارِ نو ابھی تو، ہجومِ بزدل بھی ساتھ ہوگا
ستم کے رستے پہ چلنے والے، یہ تیری جرات نئی نئی ہے
کسی کا شیوہ ہے خاکساری، کوئی انا میں گھرا ہوا ہے
یہ ظرف اپنا بتائے گا سب، کہ کس کی عظمت نئی نئی ہے

0
5