مدینے ہو آنا ثنا کرتے کرتے
حبیبی حبیبی صدا کرتے کرتے
تمنا ہے دل کی ہو باغِ مدینہ
لگے آنکھ میری دعا کرتے کرتے
چلوں میں مدینے ہیں دلبر مدینے
کریما نظر ہو ندا کرتے کرتے
گلوں سے سوا ہیں جو خارِ مغیلاں
چنے آنکھ صلے علیٰ کرتے کرتے
درِ مصطفیٰ سے ملے سرفرازی
کہاں ہیں وہ تھکتے عطا کرتے کرتے
بڑا عارضہ دل کو ہجرِ نبی ہے
سجائیں یہ سپنے دوا کرتے کرتے
بنے نعتِ سرور ہی توشہ لحد کا
رواں سانس ہو مصطفیٰ کرتے کرتے
زیاں کار محمود مانگے شفاعت
پشیماں ہوا ہے خطا کرتے کرتے

0
1