| مری نگاہ کو مجھ سے ہی باخبر کر دے |
| مرے فریب کو تھوڑا سا بے ضرر کر دے |
| مرے سکوت کو اب گفتگو کا فن دے کر |
| مری زبان کو تھوڑا سا با اثر کر دے |
| میں اپنے خوف کو برسوں سے پالتا آیا |
| اسی کو اب مرے رستے کا راہبر کر دے |
| کھلی ہے کھڑکی مگر گھر میں تو ہوا ہی نہیں |
| کبھی تو شام کو تھوڑا سا مختصر کر دے |
| وہ ایک گھر جو بس اک مکان لگتا ہے |
| کسی کی واپسی سے اس کو پھر سے گھر کر دے |
| یہ بند در ہے کئی سال سے مرے اندر |
| ذرا سا کھول، اسے میری رہگزر کر دے |
| مجھے زمانے کی اصلاح کا ہے شوق بہت |
| مرے ضمیر کو پہلے ذرا نڈر کر دے |
| میں اپنے زخم زمانے کو تو دکھاتا ہوں |
| کسی کے درد پر اب میری چشم تر کر دے |
| یہ ہاتھ شہر بناتے ہیں دوسروں کے لیے |
| کبھی تو ان کے بھی آنگن کو باثمر کر دے |
| مرے ہی ہاتھ سے دیوار اٹھ رہی ہے اگر |
| مرے ہی ہاتھ کو اک روز دربدر کر دے |
معلومات