| کس کا شہ پارہ ہوں اور کون نکھارے مجھ کو |
| تیشۂ کن نئی صورت میں سنوارے مجھ کو |
| آج سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں تھک کر |
| کل خدا پھر سے کہیں اور ابھارے مجھ کو |
| دوستی اپنی جگہ پاسِ وفا ایک طرف |
| مسندِ مہر سے اب کوئی اتارے مجھ کو |
| حالتِ دل تو نہیں خود سے بدلنے والی |
| کیوں دیے جاتے ہیں بے سود سہارے مجھ کو |
| کتنی بے فیض ہے آسودہ دلوں کی صحبت |
| کتنا سکھ دیتے ہیں دکھ درد کے مارے مجھ کو |
| رونقِ شہر سے گھبرا کے چلا آیا ہوں |
| جس نے ملنا ہو وہ صحرا میں پکارے مجھ کو |
| پھر کسی فتنۂ نادیدہ کی آمد ہے یہاں |
| کوئی آہٹ دیے جاتی ہے اشارے مجھ کو |
معلومات