شعلے تو بھڑکتے ہیں، بجھانے نہیں آتے
ہم کو تو ذرا سے بھی بہانے نہیں آتے
دامن میں چھپا لیتے ہیں ہم غم کے جزیرے
طوفاں کو ابھی گھر یہ مٹانے نہیں آتے
پھر وقت کی دہلیز پہ کیوں آنکھ لگی ہے؟
جب لوٹ کے بچھڑے وہ زمانے نہیں آتے
تہذیبِ وفا شہر میں اب ڈھونڈ رہے ہو؟
اب رسمِ مروت کو نبھانے نہیں آتے
کچھ زخم تو ایسے ہیں کہ مٹتے ہی نہیں ہیں
کچھ یاد کے منظر ہیں جو جانے نہیں آتے
دیوار پہ جو درج ہے تحریر، پڑھے کون؟
اب لوگ محبت کو پرکھنے نہیں آتے
اے دل! تری وحشت کا گلہ کس سے کریں ہم
کچھ خواب جو آنکھوں کو سجانے نہیں آتے

0
4