یہ دولتِ عرفان و یقیں ہے مری اپنی
اور دِیدَۂ تَر، قلبِ حزیں ہے مرا اپنا
اس شدتِ احساس کو کیا جانے یہ دنیا
دکھلاوے کو یاں کچھ بھی نہیں ہے مرا اپنا
جس پر مرے اندوہ کا سب حال عیاں تھا
کس منہ سے کہوں وہ بھی نہیں ہے مرا اپنا
اب قاری و پنڈت سے مجھے حُب نہیں کوئی
اک رِند خرابات نشیں ہے مرا اپنا
القِصہ مرا سفر، اے قضا تیری طرف ہے
جو بعد میں ہے تیرے وہیں ہے مرا اپنا

0
39