| یہ دولتِ عرفان و یقیں ہے مری اپنی |
| اور دِیدَۂ تَر، قلبِ حزیں ہے مرا اپنا |
| اس شدتِ احساس کو کیا جانے یہ دنیا |
| دکھلاوے کو یاں کچھ بھی نہیں ہے مرا اپنا |
| جس پر مرے اندوہ کا سب حال عیاں تھا |
| کس منہ سے کہوں وہ بھی نہیں ہے مرا اپنا |
| اب قاری و پنڈت سے مجھے حُب نہیں کوئی |
| اک رِند خرابات نشیں ہے مرا اپنا |
| القِصہ مرا سفر، اے قضا تیری طرف ہے |
| جو بعد میں ہے تیرے وہیں ہے مرا اپنا |
معلومات