یہ ترے بیاں کی شوخی، یہ بلا کی کج ادائی
میری جان لے نہ جاۓ ترے لب کی خوش نوائی
تری زلف کا جو خم ہے مری جان پر ستم ہے
مجھے الجھنوں سے اس کی نہ ملی کبھی رہائی
کسی غیر کے چمن میں مرے پھول کھل رہے ہیں
مری عمر بھر کی کاوش کوئی رنگ ہی نہ لائی
ترے بعد میرے دل نے کوئی آرزو نہ پالی
ترے ہجر کی اذیت مری روح پر ہے چھائی
شبِ غم تھی جن سے روشن وہ چراغ بجھ گئے ہیں
تری یاد کے ہی دم سے مری رات جگمگائی
مجھے عشق میں ہوا جو سو ہوا فراق حاصل
کبھی تم سبب بنے تو کبھی میری نارسائی

0
1