باخدا حقیقت ہے
عشق بھی اذیت ہے
کچھ حسین لمحوں کی
ساری عمر عدت ہے
جس پہ رو رہا ہوں میں
خواہشوں کی میت ہے
قربتوں کے درجے ہیں
آخری، ہلاکت ہے
تہمتوں کا غسل ہی
اب مری طہارت ہے
سب لٹا کے بیٹھا ہوں
صبر بھی غنیمت ہے
کیا سے کیا کیا مجھ کو
عشق، تجھ پہ لعنت ہے
ِ

0
33