نفس نفس پہ جو یادوں کی پہرہ داری ہے
خوشا یہ عمر کہ جو قید میں گزاری ہے
-
محبتوں میں خوشی چند پل ہی ہوتی ہے
پھر اس کے بعد شب و روز آہ و زاری ہے
۔
یہ دن تو کارِ جہاں میں گزر ہی جاتا ہے
ہمارے واسطے ہر شام ، غم شماری ہے
۔
یہ ایک فرق نمایاں ہے مجھ میں اور تجھ میں
کہ میں نے زندگی کاٹی تو نے گزاری ہے
۔
کیا ہے ہم نے عبادت سمجھ کے کارِ جنوں
خدائے کن فیکوں اب رضا تمھاری ہے
۔
خیال و لفظ سے منظر ابھر کے آتے ہیں
مدثر ایک طرح شعر نقش کاری ہے

0
3
14
اچھا کہا ہے

0
اچھا کہا ہے

شکریہ آپ کی محبت ہے

0