کہاں ڈھونڈھنے کو جائیں کوئی چارہ گر نہیں ہے
سرِ بامِ جاں ہمارے کوئی ہم سفر نہیں ہے
وہی زخم ہیں پرانے، وہی بے کسی کا عالم
کوئی درد اب تو دل میں نیا بارِ در نہیں ہے
جو چراغ ہم نے جلائے سرِ رہ گزر فضا میں
وہ ہوا کے رقص میں ہیں، کوئی چشمِ تر نہیں ہے
جو کتابِ زیست میں تھا، وہ عذاب لکھ رہے ہیں
کوئی حرف اب لبوں پر پسِ جاں اثر نہیں ہے
وہی رات ہے سیاہی، وہی بے چراغ راہیں
کوئی نقشِ پا ہے باقی، نہ کوئی سحر نہیں ہے

0
3