خاک ہوں اور پھر خاک سے ہی الفت ہے مجھے
خاک غرور بھی کرتی ہے؟ حیرت ہے مجھے
غربت میں بھی شکر ہے دل کو سکون تو ہے
جرم سے حاصل دولت ہو نفرت ہے مجھے
دل بہلا دیتی ہے رونق دنیا کی
ہجر میں رہ کر وصل سی ہی راحت ہے مجھے
بالوں تک ڈوبا ہوں دنیا میں لیکن
پیار لیے تم آئے ہو فرصت ہے مجھے
یوں تو حسرتیں پوری ہوئی ہیں ساری ہی
ان کی بزم سجانے کی حسرت ہے مجھے

0
3