سرِ اوجِ فلک پر ہیں حبیبِ کبریا آئے
حضورِ حق میں جانِ جاں نبی بدرِ دجیٰ آئے
مَلک جبریل امبر میں مقامِ سدرہ پر ٹھہرے
حرم نوری میں یزداں کے حبیبی مصطفیٰ آئے
خدا نے خاص بندے کو دیے تحفے گراں نادر
لئے چابی ارم کی بھی کریمِ دو سریٰ آئے
حسیں دلدارِ ہستی کو دنیٰ میں رب نے ٹھہرایا
اتر کر لا مکاں سے پھر سخی شمسُ الضحیٰ آئے
جہاں ادراکِ انساں کی رسائی ختم ہوتی ہے
دیارِ کبریا میں ہیں شہے جود و سخا آئے
نبی صادق امیں ہادی لیے الطاف خالق سے
رسولِ ہاشمی سرور نبی صدرِ عُلیٰ آئے
گواہی چاند تارے دیں خلق جامد تھی گردوں بھی
ورائے سدرہ سے جب تک نہ واپس دلربا آئے
حریمِ ناز ہے جس جا وہاں محمود دلبر تھے
مگر امت کی خاطر پھر حرم کرنے ضیا آئے

0