| اوپر جو دیکھتا ہوں بکھرے ہوئے ہیں تارے |
| اک چاند تھا جو میرا, مجھ کو نظر نا آیا |
| قاصد کو میں نے بھیجا احوال لائے تیرے |
| اب شام ڈھل رہی ہے، وہ بھی خبر نا لایا |
| چِلّا رہا ہوں کب سے سنتا نہیں ہے کوئی |
| کیوں سر کے بل گیا ہے، اُس نے جسے بلایا |
| اک شعر ہی لکھا تھا آنکھوں پہ تیری میں نے |
| حیران رہ گئے سب ،میں نے جسے سنایا |
| ہے چال مور جیسی آنکھیں ہیں جیسے دریا |
| اُس کو تو قیس رب نے، فرصت سے ہے بنایا |
معلومات