زخم اپنے دل کے سہہ کر مسکرانے والی تھی
وہ نمک کی ایک عورت بھی زمانے والی تھی
لوگ کہتے تھے کہ یہ عورت بہت خاموش ہے
کون جانے کتنی آوازیں دبانے والی تھی
آنکھ میں آنسو لیے ہونٹوں پہ اک خاموشی تھی
درد لکھتی تھی مگر سب کو ہنسانے والی تھی
دے گئی دنیا کو وہ لفظوں کا اک رستہ مگر
پھر بھی دنیا اس کو آخر بھول جانے والی تھی
خود جلی تو دوسروں کے واسطے روشن ہوئی
وہ اندھیروں میں چراغِ دل جلانے والی تھی
وہ نمک تھی اس لیے وہ جانتی تھی زخموں کو
درد کو بھی زندگی آخر سمجھنے والی تھی
داستانِ درد ساگر اس کی کیا لِکھّے کوئی
وہ تو اپنی روح تک کاغذ پہ لانے والی تھی
© ساگر حیدر عباسی

0
1