| کٹی ہے عمر جس صحرا میں، اب اس کی ہوا کیا ہے |
| ملی جو خاک میں، اس زندگی کی انتہا کیا ہے |
| گریباں چاک کرنے پر بھی دل کو چین کب آیا |
| جنوں کی انتہا کیا ہے، خرد کی التجا کیا ہے |
| ہمیں تو چاند کی چوکھٹ پہ بھی پیاسا ہی رہنا تھا |
| ہمارے واسطے اب گردشِ ارض و سما کیا ہے |
| بڑی خاموش دستک تھی، کوئی سنتا تو کیا سنتا |
| جو اندر ٹوٹ کر بکھرا، وہ سازِ بے صدا کیا ہے |
| شکستہ دل ہی لے کر اٹھ گئے ہم تیری محفل سے |
| ہمارے پاس اس کے بعد کھونے کو بچا کیا ہے |
| بڑے پندار سے ہم نے گزاری ہے شبِ ہجرت |
| کوئی پوچھے تو طوفاں سے، ہمارا حوصلہ کیا ہے |
| لبوں پر مہرِ خاموشی لگی ہے ایک مدت سے |
| کوئی خالدؔ سے اب پوچھے کہ تیرا مدعا کیا ہے |
معلومات