دیارِ غیر کی خاطر قرار کھو بیٹھے
بنا کے نقشِ تمنا، غبار کھو بیٹھے
وطن کی خاک سے وابستہ زندگی تھی مری
انہیں بھلا کے سحر کا نکھار کھو بیٹھے
وہ دوستوں کی رفاقت، وہ بے نیازی کے دن
ملی جو دولتِ دنیا، بہار کھو بیٹھے
محل تو اونچے ملے ہیں، سکوں نہیں ان میں
ہم اپنے کچے گھروں کا وقار کھو بیٹھے
مسافرت نے بجھا دی ہر ایک آس مری
چلے تھے جیت کی خاطر، دیار کھو بیٹھے
پلٹ چلو کہ وہیں زندگی کی راحت ہے
یہاں تو امن و اماں کا حصار کھو بیٹھے
دیارِ غیر کی رونق نہ راس آئی ہمیں
چلو وطن کو کہ عادلؔ، خمار کھو بیٹھے

0
2