علی کے لاڈلے نانا کی جان لکھتے ہیں
حسین ابن علی ہیں مہان لکھتے ہیں
بہت لکھی گئی نظمیں غزل قصیدے اب
غم و علم کی چلو داستان لکھتے ہیں
وہ کربلا کی زمیں اور وہ منظر شہداء
لرز گئے تھے یہ دونوں جہان لکھتے ہیں
وہ سارے لوگ یزیدی روش پہ ہیں قائم
وہ جن کو صاحبوں ہم حکمران لکھتے ہیں
زمین کرب و بلا بھی لہو لہو روئی
شہید ہو گئے جب خاندان لکھتے ہیں
شہید مرتے نہیں ہیں خدا بتاتا ہے
اسی لیے تو انہیں جاودان لکھتے ہیں
ہمارا نام بھی شبیر رکھ دیا ماں نے
سو اپنے آپ کو ہم کامران لکھتے ہیں

0
3