| کافور کر دے غم جو سرکار کی نظر ہے |
| طالع ہیں بنتے جس جا سرکار کا وہ در ہے |
| ہیں پالنے میں لیٹے دیکھیں کھلونے اُن کے |
| ایما پہ مصطفیٰ کے آکاش کا قمر ہے |
| آمد سے مصطفیٰ کی یسرب بنا مدینہ |
| کتنا حسین یارو سرکار کا نگر ہے |
| ہستی پہ سارے احساں سرکار دو سریٰ کے |
| آفاق کے کراں تک دلدار کی خبر ہے |
| بھیجیں درود اُن پر بھیجیں صلات سارے |
| مولا جو کہہ رہا ہے اس کا بڑا ثمر ہے |
| یادِ جمالِ دلبر تدبیرِ غم ہے میری |
| ذکرِ حبیبِ یزداں حاصل مجھے حصر ہے |
| محمود خوف کیسا روزِ قیام کا یوں |
| دامانِ مصطفیٰ جو تیرے لئے مفر ہے |
معلومات