| سُکُوت خود مرے اندر سُکوں کی راہ رہا |
| سو شور دل کا مرے حق میں ہے گواہ رہا |
| میں اپنے گھر میں رہا ایک اجنبی کی طرح |
| مرا وجود مرے نام کی پناہ رہا |
| وہ ایک شخص جو آئینۂ یقین بھی تھا |
| اسی کے بعد ہر اک عکس بے نگاہ رہا |
| کسی نے شہر کے زخموں کو پھول کہہ ڈالا |
| تبھی تو درد بھی خوشبو کو ہے سرا ہ رہا |
| ہوا نے شمع بجھائی تو یہ سمجھ آیا |
| اندھیرا روشنی کا کیسے خیر خواہ رہا |
| ہمیں تو خاک نے سکھلائی سر بلندی پر |
| شجر ہر ایک ہوا کے لیے تو کاہ رہا |
| کبھی تو عشق نے منطق کے در بھی کھولے ہیں |
| کبھی جنون ہی دانش کا بادشاہ رہا |
| میں اپنی ذات کے صحرا میں جب بھی اترا ہوں |
| کوئی سراب مری پیاس کی ہے چاہ رہا |
| نہ جانے کتنے زمانوں کی گرد اوڑھے ہوئے |
| ہر ایک آدمی اک گم شدہ گواہ رہا |
| غزل نے تجھ کو فقط شعر گو نہیں رکھا |
| تری شکست میں بھی اک نیا نباہ رہا |
| صریرِ خامہ نے طارِق نہ جانے کیا سوچا |
| وہ گاہ محوِ تکّلّم خموش گاہ رہا |
معلومات