کتنی جانیں لگ جاتی ہیں دیس آزاد کرانے میں
بیچ رہے ہو پیٹ کی خاطر جس کو کھوٹے آنے میں
وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اپنی قربانی سے
خون جگر کا دیتے ہیں جو ایسا باغ سجانے میں
یا رب میری ارض وطن اب حشر تلک آباد رہے
امن کے پنچھی محو رہیں بس امن کے گیت سنانے میں
اس کے ہر اک جام میں شامل خدمتِ خلق کا جذبہ ہو
حرص و ہوس کا نام نہ ہو اس گلشن کے مے خانے میں
رب کی عطا سے دیس ملا مت ہاتھوں سے برباد کرو
کیسے ننھے پھول کھلیں گے صحرا کے ویرانے میں

0
2