کچھ سنا جائے کچھ کہا جائے
کیا ضروری ہے چپ رہا جائے
ضبط میں اصل حسن ہوتا ہے
کیسے جذبات میں بہا جائے
عشق کم مائگی پہ نادم ہو
کیا پسینے میں پھر نہا جائے
زخم اس راہ کے ہیں پُر لذّت
ہر کوئی اس میں بارہا جائے
وصل تو مستزاد نعمت ہے
ہجر بھی شکر سے سہا جائے
خوشبو ئیں جب اٹھیں کھنچے جائیں
کیا کریں جس سے اشتہا جائے
دل کو جس کے لگی ہو وہ جانے
پانی آنکھوں سے بے بہا جائے
پیار سے ابتدا ہوئی طارِق
کس طرف لے کے انتہا جائے

0
5