| تیری قامت سے عیاں ہے زندگی کا بانکپن |
| تیری قامت کے تلے ہی ختم ہے رنج و محن |
| کِس طرح روکیں بھلا اب موجِ خوں کے سلسلے |
| جب تری یادوں سے مہکا ہے خیالوں کا چمن |
| تیری پازیبوں کی جھنکارِ سحر کے سامنے |
| لرزہ بر اندام ہے اب مصلحت کا ہر چلن |
| جب اٹھی ہیں تیری آنکھیں، کھل گئے ہیں میکدے |
| جب جھکی ہیں، ہو گیا ہے نورِ ہستی موجزن |
| خالد اِس بزمِ وفا میں خود کو یوں رُسوا نہ کر |
| عشق کی ہیبت سے لرزاں ہے ابھی سارا وطن |
معلومات