تیری قامت سے عیاں ہے زندگی کا بانکپن
تیری قامت کے تلے ہی ختم ہے رنج و محن
​کِس طرح روکیں بھلا اب موجِ خوں کے سلسلے
جب تری یادوں سے مہکا ہے خیالوں کا چمن
​تیری پازیبوں کی جھنکارِ سحر کے سامنے
لرزہ بر اندام ہے اب مصلحت کا ہر چلن
​جب اٹھی ہیں تیری آنکھیں، کھل گئے ہیں میکدے
جب جھکی ہیں، ہو گیا ہے نورِ ہستی موجزن
​خالد اِس بزمِ وفا میں خود کو یوں رُسوا نہ کر
عشق کی ہیبت سے لرزاں ہے ابھی سارا وطن

0
5