یہ بیویاں تو فقط حکم ہی چلاتی ہیں
یہ شوہروں پہ ستم روز روز ڈھاتی ہیں
لگا کے منہ پہ یہ میک اپ سجیں پری کی طرح
جو دھو لیں منہ تو بنی بھوتنی ڈراتی ہے
خیال خوب فگر کا رکھیں نکاح تلک
مگر یہ بعد میں کیوں موٹی ہوتی جاتی ہیں
کبھی جو لے گئے شاپنگ، ان کو، یاد رہے
فضول چیزوں پہ خرچہ بہت کراتی ہیں
بہانہ کوئی جھگڑنے کا ان کو مل جائے
ہر ایک بات میں نندوں کو کھینچ لاتی ہیں
اگرچہ ہم تو تھے شادی سے پہلے طررم خاں
مگر یہ بیویاں تو خوب اکڑ مٹاتی ہیں
غلام جورو کے بن کر رہو تو اچھا ہے
یہ رانیاں ہی ہیں جو سارا گھر چلاتی ہیں

0
4