ہر مبصّر اور مقّرر کی زباں خاموش تھی
کارواں کا واعظِ شعلہ بیاں خاموش تھا
خُوں آلودہ دستِ حاکم تھا، جہاں خاموش تھا
تھے مقفّل لب زمیں کے، آسماں خاموش تھا
بہہ رہا تھا یہ یقناً رٙضوّیت والوں کا خُوں
خامشی تھی اس لئیے تھا حرّیت والوں کا خُوں

0
58