| دکھ درد ہر انسان کے چہرے پہ عیاں ہے |
| یہ ظلم و ستم جب سے فلسطیں میں رواں ہے |
| گلشن یہ مہکتا تھا گلوں سے کبھی، اب تو |
| ہر سمت یہاں آگ ہے ہر سمت دھواں ہے |
| ہم کر نہ سکے قبلۂِ اول کی حفاظت |
| اک اور ہمیں چاہیے ایوبی، کہاں ہے |
| حلیے سے تو مومن ہیں عمل سے ہیں یہ کافر |
| اسلام کہاں ظاہری حلیے میں نہاں ہے |
| کرنی تھی مسلمان کو دنیا کی قیادت |
| خود امتِ مسلم پہ ہی دہشت کا سماں ہے |
| کر خونِ جگر دے کے ہرا باغ کو مسلم |
| مت سوچ کہ تقدیر میں ہی فصلِ خزاں ہے |
معلومات