حبیب اللہ رسول اللہ حبیبی مصطفیٰ ہیں یہ
ضمیرِ دہر تاباں ہے جہاں بھر کی جِلا ہیں یہ
نبی آئے جمیلِ حق جمالِ دو جہاں سرور
ہوئی تکمیل نعمت کی امامِ انبیا ہیں یہ
فضائل میں نبی سارے خدا کے خاص بندے ہیں
جنہیں لولاک رب کہتا وہ ہی کن کی وجہ ہیں یہ
زمیں دیکھیں عرب والی جو ظلمت سے تھی پُر ساری
ورودِ جاں سے تاباں ہے نبی نورِ ہدیٰ ہیں یہ
کیا ہے دور دلبر نے جہالت کے اندھیروں کو
خلیل اللہ کے یہ موتی رسولوں کی دعا ہیں یہ
ہے حکمت سے بھرا رب نے جو قرآں آپ لائے ہیں
کریں روشن جو ہستی کو دلوں کی بھی ضیا ہیں یہ
کرو محمود یہ عرضی مدینے کا ملے گلشن
حزیں دل کی جو سنتے ہیں جنابِ مصطفیٰ ہیں یہ

0
1
2
مرکزی پیغام:
یہ نعت حضورِ اکرم ﷺ کی عظمت، رحمت، ہدایت، قرآن سے وابستگی، انسانیت پر احسان اور مدینہ منورہ کی حاضری کی شدید آرزو کو ایک مربوط عقیدت مندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔

0