| "إِلَى اللِّقَاء" |
| میرے بدن کے بوجھ خود سے سمٹ رہے ہیں |
| تمام سفاک درد ہولے سے گھٹ رہے ہیں |
| میں نا خدائی کے وہم سے جو نکل چکا ہوں |
| تو اپنی خود انحصاریوں سے بچ گیا ہوں |
| میں اب سہاروں کو اپنی طاقت سمجھ رہا ہوں |
| میں اب دلاسوں میں ماں کی شفقت کو دیکھتا ہوں |
| جو کہنا چاہوں وہ کہہ نہ پاؤں |
| جو لکھنا چاہوں وہ لکھ نہ پاؤں |
| نہیں لکھا تھا وہ پڑھ رہا ہوں |
| نہیں پڑھا تھا وہ دکھ رہا ہے |
| کسی ہدائیت پہ سونا اٹھنا |
| کسی کے کہنے پہ کھانا پینا |
| چمن میں خوبی کی کوئی صورت ، |
| نہ سرخ پھولوں میں دلربائی |
| یہ دن کی آمد ہے رات جیسی |
| یہ رات جیسے کہ دن بجھا ہو |
| بس اک مسلسل سی شام ہے جو |
| تمام عالم پہ چھا رہی ہے |
| میں منتظر ہوں جس گھڑی کا |
| وہ آنے والی ہے آ رہی ہے |
| میں اپنی منزل پہ جانے والا |
| میں جا رہا ہوں |
| میں جا چکا ہوں |
| میں جا چکا ہوں |
معلومات