| جب آنکھوں میں دلکش منظر آئے گا |
| ساتھ تری یادوں کا سمندر آئے گا |
| کیونکہ اس نے میری نیند چرائی تھی |
| اب وہ شخص تو خواب میں اکثر آئے گا |
| وقت اگر خود کو دہراتا ہے تو پھر |
| مستقبل میں ماضی مڑ کر آئے گا |
| ہم پردیس کو دیس سمجھ لیں، پر کوئی |
| فون پہ پوچھ رہا ہے "کب گھر آئے گا" |
| تم امید کا دامن تھام کے رکھنا بس |
| پردیسی اک روز پلٹ کر آئے گا |
معلومات